عالمی سطح پر معاشرتی اقدار کے فقدان کے باعث خاندانی نظام بھرپور انتشار کا شکار ہے
By admin at 15 May, 2008, 1:03 pm
) آج پوری دنیا میں عالمی یوم خاندان Fathers and Families; Responsibilities and Challenges) کے عنوان کے تحت منایا جارہا ہے جس کا مقصد عالمی سطح پر نہ صرف خاندانی نظام کی اہمیت اجاگر کرنا ہے بلکہ معاشرتی اقدار کو بھی فروغ دینا ہے تاہم عالمی سطح پر معاشرتی اقدار کے فقدان کے باعث خاندانی نظام بھرپور انتشار کا شکار ہے۔ معاشرہ مغربی ہو یا مشرقی خاندان پیچیدگیاں عام ہیں کہیں میاں بیوی کا مزاج خاندانی نظام کو نقصان پہنچایا جارہا ہے تو کہیں تنازعات پورے کے پورے خاندان کے خاتمے کا سبب بن جاتے ہیں۔ عالمی سطح پر جدت پسندی اور تحمل کے دعویدار ممالک میں خاندانی نظام تیزی سے انحطاط کا شکارہے۔ سویڈن اور امریکہ جیسے جدید ممالک کے 55 فیصد خاندان ٹوٹ چکے ہیں۔
خاندانوں کی ٹوٹ پھوٹ اور طلاق کی شرح میں یہ دونوں ممالک دنیا میں سرفہرست ہیں۔ ان ممالک کے شادی شدہ جوڑے اپنے خاندان کو بچانے میں ناکام رہتے ہیں۔ بیلاروس کے 53 فیصد، فن لینڈ کے 51 فیصد، لیگسمبرگ کے 48 فیصد، استونیا کے 47 فیصد، ڈنمارک کے 45 فیصد، بلیجیم کے 44 فیصد اور آسٹریلیا کے 43 فیصد شدہ جوڑے اپنی ازدواجی زندگی کونبھانے میں ناکام رہتے ہیں اور یہ فیملی یونٹ کو توڑنے کا سبب بنتے ہیں جس سے نہ صرف وہاں کے خاندانی نظام کو دھچکا لگتا ہے بلکہ اس سے ان ممالک کے بچے بھی مناسب پرورش سے محروم رہتے ہیں۔ عالمی دنیا کے حوالے جنگ ڈیولپمنٹ رپورٹنگ سیل نے مختلف ذرائع سے جو اعدادوشمار حاصل کئے ہیں ان کے مطابق ناروے، روس، برطانیہ اور چیکوسلواکیہ کے بھی خاندان محفوظ نہیں اور وہاں کے 40 فیصد سے زائد خاندان ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ 21 ویں صدی کے آغاز سے ہی ایشیاء میں جنگ سے ایک بڑی تعداد ہلاک ہوئی۔ خصوصاً افغانستان اور عراق میں کئی خاندان ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم ہوگئے۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پاپولیشن اسٹیڈیز کے مطابق ملک میں ایک خاندان اوسط 6.8 افراد پر مشتمل ہے۔ صوبائی سطح پر صوبہ سرحد کا فیملی یونٹ اوسط 8 افراد فی خاندان کے لحاظ سے سرفہرست ہے۔ 6.9 افراد کے ساتھ پنجاب دوسرے، 6.7 افراد کے ساتھ بلوچستان تیسرے اور 6 افراد کے ساتھ سندھ چوتھے نمبر پر ہے۔ ورلڈ بنک کا عالمی معیار برائے خاندان 6 افراد فی خاندان ہے۔ عالمی سطح پر قبائلیوں کا خاندانی نظام ایک مضبوط خاندانی نظام ہے۔ ملک کا کامیاب جوائنٹ فیملی سسٹم مغربی ثقافت کی یلغار اور معاشرتی ردبدل کے باعث انحطاط کا شکار ہے اور 50 فیصد سے زائد جوائنٹ فیملی یونٹ ٹوٹ چکے ہیں۔ وزارت تعمیرات کے مطابق ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر ملک میں سالانہ 5 لاکھ خاندانوں کو گھر مہیا کئے جانے سے 20 برسوں میں تمام خاندانوں کو گھر مہیا کیا جاسکتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ملک میں 60 لاکھ خاندان گھر جیسی نعمت سے محروم ہیں۔ ملک میں موجود کل گھروں کے حوالے سے دیہاتی آبادی کے 67 فیصد خاندان ذاتی گھروں میں رہتے ہیں جبکہ شہروں میں بس صرف 33 فیصد خاندان کچے گھروں میں رہتے ہیں۔ خاندانوں کا عالمی سال 1999ء سے ہر سال اقوام متحدہ کے زیر اہتمام منائے جانے کے باوجود دنیا کے ہر خطے میں خاندان انتشار کی طرف گامزن ہے۔
Sorry, the comment form is closed at this time.









No comments yet.