مایا وتی سفارت نامہ…ریاض احمد سید
By admin at 10 September, 2008, 9:45 pm
بھارتی سیاست کی جن تین خواتین نے مجھے متاثر کیا ہے ان کے شبھ نام اندرا گاندھی، پھولن دیوی اور مایاوتی ہیں۔ پہلی دوتو سورگباش ہوگئیں البتہ تیسری یعنی مایا وتی کا جادو پورے ہند میں سرچڑھ کر بول رہا ہے۔ اچھوت رہنما مایاوتی کا طرزِ سیاست اپنے منظوراحمد وٹو کے ساتھ ملتا ہے۔ سیاسی افراتفری اس ابھرتی ہوئی بھارتی لیڈر کو بہت سوٹ کرتی ہے۔ وہ تین بار ہندوستان کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست اترپردیش کی وزیراعلیٰ رہ چکی ہیں اور تینوں بار 403 رکنی اسمبلی میں ان کی بہوجن سماج پارٹی کے ارکان کی تعداد ایک چوتھائی سے بھی کم تھی لیکن ہر بار موصوفہ نے پتّے کچھ اس انداز سے کھیلے کہ چیف منسٹر کی گدی انہی کے پاس رہی۔ موجودہ لوک سبھا میں بہوجن سماج پارٹی کی صرف 17 نشستیں ہیں لیکن اعتماد کے ووٹ کی حالیہ جنگ میں موصوفہ کانگریس اور جنتا کے بعد تیسری بڑی طاقت کے طور پر سامنے آئی ہیں۔
گو وزیراعظم من موہن کانگریسی حکومت بچانے میں کامیاب رہے لیکن مبصرین کہہ رہے ہیں کہ 2009ء کے عام انتخابات کے بعد ہندوستان کی وزیراعظم مایاوتی ہوں گی اور انہیں جملہ علاقائی اور چھوٹی پارٹیوں کی حمایت حاصل ہوگی۔
فی الحقیقت 52 سالہ مایاوتی کی شخصیت میں ایک سحر ہے جو لوگوں کو آسانی کے ساتھ متوجہ کرلیتا ہے۔ گاندھی کی پجاری ہونے کے باوجو محترمہ نمودونمائش کی شوقین ہیں۔ اپنا جنم دن کچھ اس شان و شوکت سے مناتی ہیں کہ ہلے گلے کے شوقین پارٹی ورکر پورا سال انتظار میں گزار دیتے ہیں۔ ان کے پہناوے اور جیولری بھی اپرکلاس کو مات کرتی ہے اور پھر اترپردیش میں ہر معقول جگہ پر ایستادہ ان کے مجسمے ان کی خودنما فطرت کے عکاس ہیں۔ ان کی دولت اور جائیداد کے چرچے اس پر مستزاد ہیں۔ مایاوتی بھارت بھر کے 16 کروڑ اچھوتوں کی بلاشرکت غیرے لیڈر ہیں۔ اترپردیش ان کا مضبوط قلعہ ہے اور وہ دوسری ریاستوں میں بھی اپنے اتحادی ہم خیال تلاش کرنے میں کامیاب رہی ہیں۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ بھارت کے سیاسی حلقے مایاوتی کو انڈرایسٹیمیٹ کررہے ہیں۔ وہ فی الحقیقت ان گائیڈڈ میزائل ہے جس کے طرزِ عمل کے بارے میں کوئی پیش گوئی نہیں کی جاسکتی۔ خیال کیا جاتا ہے کہ 2009ء کے عام انتخابات کے نتیجے میں معرض وجود میں آنے والی لوک سبھا ہنگ پارلیمنٹ ہوگی۔ کوئی بھی سیاسی جماعت اکثریت حاصل کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ ایسے میں پرومایاوتی اتحاد جسے تھرڈ فرنٹ کا نام دیا جاتا ہے کے ساتھ بہت امیدیں وابستہ کی جارہی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق تھرڈ فرنٹ لوک سبھا کی کم و بیش ایک سو نشستیں جیتنے میں کامیاب ہوجائے گا اور مایا وتی کی جوڑ توڑ کی ماہرانہ سیاست کے پیش نظر انہیں مستقبل کی وزیراعظم تصور کیا جارہا ہے۔
مایاوتی کی ابتدائی زندگی دیکھیں تو ہر طرف غربت و افلاس کا پہرہ ہے۔ والد پربھوداس جونیئر کلرک تھا، دہلی کے مضافات میں جھگی نما مکان تھا جہاں وہ پلی بڑھی۔ چھ بھائیوں کی اکلوتی بہن تھی، گو ذہین و فطین اور ہر لحاظ سے بھائیوں سے بہتر تھی لیکن باپ کی توجہ سے یکسر محروم۔ موصوف کا خیال تھا کہ بیٹوں پر خرچ کرنا چاہئے بیٹی تو پرایا دھن ہے اس پر دولت لٹانے سے کیا حاصل؟ چنانچہ باپ بیٹی میں کبھی نہ بن سکی پھر بھی اس نے اپنی محنت اور ہمت سے تعلیم جاری رکھی اور لاء گریجویٹ بنی۔ مایا کو برستے ساون کی وہ سہ پہر آج بھی یاد ہے کہ اس کے چھ کے چھ بھائی بیٹھے پکوڑے کھارہے تھے کہ مایاوتی کو یہ حکم ملا کہ وہ صحن میں بندھی بھینس کو برآمدہ میں لے آئے اسے چارہ ڈالے اور دودھ بھی نکالے۔ مایا نے بہت احتجاج کیا کہ کل سے اس کا لاء کا فائنل امتحان شروع ہورہا ہے یہ لفنگے کیا کررہے ہیں، یہ سب وہ بھی تو کرسکتے ہیں لیکن اس کی ایک نہ چلی کام بھی کرنا پڑا اور پھٹکار بھی سہنا پڑی۔
قانون کی ڈگری لی تو باپ نے پھبتی کسی ”دیکھو چلی ہے وکیل بننے! آرام سے گھر بیٹھو، لفنگوں اور چوروں اچکوں سے منہ ماری کی کوئی ضرورت نہیں۔“ انہیں دنوں مایا وتی کی ملاقات اچھوتوں کے ابھرتے ہوئے لیڈر کاشی رام سے ہوگئی کسٹمز کے محکمے میں نوکریاں آئیں تو کاشی رام سے سفارش کا کہا، موصوف کا جواب تھا، نوکری کو دفعہ کرو زیادہ سے زیادہ کلیکٹر بن جاؤ گی۔ میں تمہیں وہ گر بتاتا ہوں کہ کلیکٹر لوگ تمہارے گھر کی حاضری کو باعث عزت سمجھیں۔ چنانچہ مایا وتی کاشی رام کے ساتھ ( ) کہ کس تلنگے کے ہتھے چڑھ گئی ہو؟ اس سے تو بہتر تھا کہ وکیل بن جاتیں۔ مایاوتی کا جواب تھا کہ ”اپنے کام سے کام رکھیں، ہر معاملہ میں خواہ مخواہ ٹانگ نہ اڑایا کریں، میں نے یہ فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا ہے۔“ باپ کی نوک جھونک جاری رہی تو مایا وتی گھر چھوڑ گئی اور پارٹی کیلئے رات دن ایک کردیا۔ دھیرے دھیرے مقام بنتا چلا گیا اور ایک دن وہ ریاستی اسمبلی کی رکن منتخب ہوگئی اور وزیر بھی بن گئی۔ لوگ اس کے باپ کے پاس سفارش لے کر آنے لگے تو اسے احساس ہوا کہ اس سے کتنی بڑی غلطی ہوئی ہے۔ ایک کیس میں باپ سفارش لے کر مایاوتی کے پاس گیا تو اس نے بے پناہ عزت کی۔ پاؤں چھوئے اور کہا ”آپ نے کیوں تکلیف کی مجھے بلالیا ہوتا“ مگر جب ذرا تنہائی ملی تو کہنے لگی ”اب میری یاد کیسے آگئی؟ آپ تو کہا کرتے تھے کہ میں کونسلر بھی نہیں بن سکتی، میرے گھر پر لگا جھنڈا دیکھ لیا ناں! اب میرے پاس کیا لینے آئے ہیں؟ آپ کے چھ عدد کڑیل ”سپوت“ ہیں، ان سے کہا ہوتا آپ کا مسئلہ حل کردیتے۔ بھینس کا دودھ نکالتے نکالتے میری انگیاں ٹیڑھی ہوگئیں، لیکن مجھے کوئی غم نہیں، اگر کچھ بھی نہ کروں، سیاست، وکالت سب چھوڑدوں بھی تو ایک بھینس پال کر گزارہ کرسکتی ہوں اور وہ آپ کے چھ عدد پوت، کام کے نہ کاج کے دشمن اناج کے۔“
ہم مایاوتی کے سیاسی مستقبل پر بات کررہے تھے تو ایک دوست نے کہا کہ یار ! اس طرح ایک مایاوتی پاکستانی سیاست میں ہونا چاہئے، دوسرے نے سنا تو کہا ”آہستہ بولو، دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں۔ اگر امریکہ بہادرنے سن لیا تو وہ تمہاری یہ خواہش پوری کرنے میں دیر نہیں لگائے گا اور جانتے ہو تمہاری مایاوتی کون ہوگی؟ واشنگٹن اورہیومن رائٹس والوں کی منظورِ نظر مختاراں مائی۔
Sorry, the comment form is closed at this time.









No comments yet.