لارڈ نذیر کو عافیہ سے ملنے کی اجاز
By admin at 12 September, 2008, 12:54 pm
دارالامرا کے رکن لارڈ نذیر احمد امریکہ میں قید پاکستانی ڈاکٹر عافیہصدیقی سے ملنے جانے والے ہی
بی بی سی اردو کے جعفر رضوی سے بات کرتے ہوئے لارڈ نذیر نے کہا کہ چند ہفتے پہلے انہوں نے امریکی حکومت سے ڈاکٹر عافیہ کے متعلق استفسار کیا تھا اور برطانوی دارالعوام میں بھی اس کے بارے میں سوالات پوچھے تھے کہ قیدی نمبر 650 کون ہے، افغانستان میں ڈاکٹر عافیہ کی حراست کیسے ہوئی، ان کی جسمانی اور دماغی صحت کیسی ہے وغیر وغیرہ۔
انہوں نے کہا کہ ’میں نے امریکہ سے یہ بھی کہا تھا کہ جہاں کہیں بھی ڈاکٹر عافیہ ہیں میں ان سے ملنا چاہتا ہوں۔‘
’دو دن پہلے مجھے برطانیہ میں امریکہ کے سفیر کا خط آیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ پہلے تو ’قیدی نمبر 650‘ ڈاکٹر عافیہ نہیں ہیں۔ دوسرا ڈاکٹر عافیہ جولائی 2008 سے امریکی حراست میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ مجھے خوشی سے ڈاکٹر عافیہ سے ملنے کی اجازت دے سکتے ہیں۔‘
لارڈ نذیر نے کہا کہ گوانتاناموبے اور افغانستان میں قید رہنے والے معظم بیگ نے انہیں ڈاکٹر عافیہ کے متعلق بتایا تھا کہ وہ افغانستان میں امریکی حراست میں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکی سفارتخانے اور نیو یارک میں امریکی پروسیکیوٹر نے انہیں کہا ہے کہ وہ میری ملاقات کے بارے میں ڈاکٹر عافیہ سے پوچھ کر ہی بتائیں گے۔
لارڈ نذیر کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ساتھ ڈاکٹر عافیہ کی بہن‘ ماں یا کسی اور خاتون لے کر جانا چاہتےہیں۔
’وہ مجھے نہیں جانتی اور نہ ہی ان کی دماغی یا جسمانی حالت ایسی ہے کہ وہ مجھے پہچان سکیں۔‘
لارڈ نذیر کا کہنا ہے کہ مجھے ڈاکٹر عافیہ اور ان کے بچوں کے متعلق تشویش ہے اور ’میں جاننا چاہتا ہوں کہ پچھلے پانچ سال میں ان کے ساتھ کیا ہوا اور وہ کہاں تھیں۔‘
کچھ دن قبل پاکستانی وزارتِ خارجہ نے بھی اسلام آباد میں امریکی سفارت کار کو دفتر خارجہ طلب کر کے ڈاکٹر عافیہ کو اور ان کے بچوں کو قید میں رکھنے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔
Sorry, the comment form is closed at this time.









No comments yet.